11 مئی 2026 - 14:21
مآخذ: ابنا
پینٹاگون کے 1.5 ٹریلین ڈالر بجٹ میں اسرائیل کے لیے غیرمعمولی امداد

رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے 2027 کے لیے امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کا بجٹ 1.5 ٹریلین ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے، جو امریکی تاریخ کا سب سے بڑا فوجی بجٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے 2027 کے لیے امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کا بجٹ 1.5 ٹریلین ڈالر تک بڑھانے کا منصوبہ بنایا ہے، جو امریکی تاریخ کا سب سے بڑا فوجی بجٹ قرار دیا جا رہا ہے۔

پینٹاگون کے مجوزہ بجٹ میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 42 فیصد اضافہ شامل ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کا موجودہ دفاعی بجٹ چین، روس اور یورپی ممالک سمیت اگلے دس ممالک کے مجموعی فوجی اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔

اگر نیا بجٹ منظور ہو جاتا ہے تو یہ دنیا کے کل دفاعی اخراجات کا تقریباً نصف بن سکتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے نئے بجٹ کا 52 فیصد، یعنی 750 ارب ڈالر سے زائد رقم، جدید ہتھیاروں، جنگی طیاروں، بحری جہازوں، میزائلوں اور آئندہ نسل کے دفاعی نظاموں کے لیے مختص کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ شرح گزشتہ پچاس برسوں میں اسلحے پر سب سے زیادہ خرچ ہے، جو ریگن اور بائیڈن ادوار سے بھی زیادہ بتائی جا رہی ہے۔

بجٹ میں اسرائیل کی حمایت کے لیے 4.4 ارب ڈالر اضافی مختص کیے گئے ہیں، جنہیں “اسرائیل کی حمایت میں فوجی آپریشنز” پر خرچ کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ 530 ملین ڈالر مشترکہ میزائل دفاعی نظاموں کی تیاری اور پیداوار کے لیے رکھے گئے ہیں، جن میں:

رپورٹ کے مطابق جہاں اسرائیل کے لیے اربوں ڈالر مختص کیے گئے، وہیں عراق کے کردستان ریجن کے لیے امریکی امداد میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔

رپورٹ میں نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ نیا پینٹاگون بجٹ صرف مالی اضافہ نہیں بلکہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان سیکیورٹی اور عسکری تعاون کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں تل ابیب کی حمایت امریکی فوجی پالیسی کا براہِ راست حصہ بنتی جا رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha